بنگلورو،5/جنوری(ایس او نیوز) راجیہ سبھا میں کانگریس کے اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے ہفتہ کے دن شہر کے کے پی سی سی دفتر پر اپنی پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ جھوٹ بول کر اب ملک کے عوام کو بے وقوف بنا کراپنی حکومت کی ناکامیوں کو چھپا نہیں سکتے، ملک کے عوام کو مذہب کے نام پر آپس میں لڑا نے کا کام نہیں کرسکتے - آج ملک بھر میں این آر سی اور سی اے اے کو لے کر جو تحریک اُٹھ کھڑی ہے وہ کسی طبقہ یا پارٹی کے اشارہ پر نہیں - تمام دھرم کے ماننے والوں نے حکومت کے فیصلوں کے خلاف یہ جنگ چھیڑ رکھی ہے- آج پورا ملک این آر سی اور سی اے اے کا مخالف بن کر سڑکوں پر اتر آیا ہے - بی جے پی یہ باور کرانے کی ناکام کوشش کررہی ہے کہ یہ سب کانگریس کے اشارہ پر کیا جارہا ہے- کیا کانگریس پارٹی اتنی زیادہ طاقت ور ہے کہ وہ جرمنی، امریکہ، فرانس کے صدر اور امریکہ کی 19یونیورسٹیوں کو بی جے پی حکومت سے بد ظن کرکے مودی حکومت کے خلاف آواز اٹھانے پر مجبور کرے؟ ملک کے سامنے مودی اور بی جے پی کااصل چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے-اب عوام یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے مودی حکومت پر ان کے جھوٹے وعدوں پر بھروسہ کرکے غلطی کی - عوام ملک میں امن بھائی چارہ،بے روز گاروں کو ملازمت اور بڑھتی قیمتوں پر کنٹرول چاہتے ہیں، ملک کی جی ڈی پی شرح بڑھا نا چاہتے ہیں - مزدوروں کو مناسب تنخواہ اور غربت سے لڑنے کے لئے وہ آج متحد ہوکر این آر سی اور سی اے اے کے خلاف سڑکوں پر اتر آئے ہیں -غلام نبی آزاد نے کہا کہ اب اور زیادہ لوگ سامنے آئیں گے، ہم اُن لوگوں کو سلام کرتے ہیں جو اس غیر ضروری اور ملک کے امن کو بگاڑ نے والے قوانین کے خلاف پُر زور تحریک چلا رہے ہیں - انہوں نے حکومت کو محسوس کرایا کہ وہ مردہ گھوڑوں سے انہیں ڈرانا اور خوفزدہ کرنا چھوڑ دیں - ملک کو توڑنے کے بدلے جوڑنے کا کام کریں، اُن مسائل پر توجہ دیں جو اس ملک کو آگے لے جاسکیں - انہوں نے کہا کہ مودی ملک کے عوام کو پاکستان کے نام سے ڈرا کر انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں - اس سے وہ ملک کی بے عزتی کررہے ہیں -کیا ہندوستان اور عوام اتنے کمزورہیں کہ وہ پاکستان سے ڈر جائیں گے - در اصل وہ صرف حکومت کی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے یہ حرکت کررہی ہے - پاکستان سے لڑنے کیلئے صرف کشمیر کی ہماری فوج کافی ہے - پورا ملک مطالبہ کررہا ہے کہ حکومت اصل مسائل پر توجہ دے- غلام نبی آزاد نے وزیر داخلہ سے یہ سوال کرتے ہوئے کہا کہ صرف تین پڑوسی ملکوں کے نام کیوں لئے گئے جو مذہب کی بنیاد پر بنے ہیں،جبکہ سری لنکا، بھوٹان،نیپال، میانمار جوہمارے پڑوسی ملک ہیں وہ بھی مذہب کی بنیاد پر بنے ہیں - بدھ مذہب کے لوگ صرف پاکستان بنگلہ دیش افغانستان میں نہیں سری لنکا، بھوٹان میں بھی ہیں، وہاں کے بدھسٹ اور ہندوؤں کا ذکر کیوں نہیں؟ روہنگیا میانمار کے عیسائی اور احمدیہ فرقہ کے لوگ کیو ں نہیں آسکتے ہیں، اس کا کیا جواب ہے؟وزیر اعظم مودی بار بار بیانات بدلنے میں ماہر ہیں - دہلی رام لیلا میدان میں مودی نے کہا تھا کہ 2014ء سے ہم نے کبھی این آر سی کی بات نہیں کی؟ -20جون 2019 ء کو پارلیمان میں بجٹ سیشن کے وقت صدر ہند نے اپنے خطبہ میں کہا تھا کہ این آر سی لانے کی تیاری کریں گے - وزیراعظم کو کیا پتہ نہیں تھا - صدر ہند کی تقریر مرکزی کا بینہ میں وزیر اعظم کی موجودگی اور منظوری سے ہی تیار کی جاتی ہے- بی جے پی نے اپنے 2009ء کے منشور میں بھی کہا تھا کہ وہ این آر سی لانے کو اہمیت دیں گے -وزیر اعظم دوغلے بیانات دے کر ملک کے عوام کو گمراہ کررہے ہیں، ان کے بیانات پر عوام کیسے بھروسہ کریں گے - عوام نے محسوس کرلیا ہے کہ یہ پارٹی ہمیں چاند دکھا کر دلو ں میں نفرت کا زہر بھرنے کی کوشش کررہی ہے -
کچھ دنوں تک تو مودی نواز شریف کے گن گاتے رہے اور اب نواز شریف جیل میں ہیں اور کرکٹ کا کھلاڑی وزیر اعظم ہے، پاکستان مردہ گھوڑا ہے - وزیراعظم اور بی جے پی پاکستان کا ڈر دکھا کر سیاسی کھیل کھیلنا بند کریں اور عوامی مسائل کے سلجھانے پر توجہ دیں -پریس کانفرنس کے دوران کے پی سی سی کے صدر دنیش گنڈوراؤ، سدارامیا،وی ایس اگرپا، نصیر احمد، ناصر حسین اور کانگریس کے دیگر قائدین موجود تھے-